آج ایسا کرتے ہیں ....
بے صدا لفظوں میں
وجہ زندگی که کر
وصل کی ضرورت پر
پھر سے زور دیتے ہیں
آج ایسا کرتے ہیں
ذکر وہی کرتے ہیں
نام اور دیتے ہیں
ضبط کے کناروں سے
درد آن لپٹا ہے
ٹوٹتے کنارے اب
درد اور دیتے ہیں
آج ایسا کرتے ہیں
درد سے الجھتے ہیں
ضبط چھوڑ دیتے ہیں
تار تار دامن کو
خار خار راہوں میں
رنجشیں بھلا کے ہم
آ کے جوڑ دیتے ہیں
آج ایسا کرتے ہیں
ہم نہیں پلٹتے ہیں
راہ موڑ دیتے ہیں
آ کے اب دعاؤں کو
ماتمی رداؤں میں
پھر سے کرکے الوداغ
موقع اور دیتے ہیں
آج اس کرتے ہیں
دریا میں اترتے ہیں
رب پے چھوڑ دیتے ہیں
-نامعلوم -
بے صدا لفظوں میں
وجہ زندگی که کر
وصل کی ضرورت پر
پھر سے زور دیتے ہیں
آج ایسا کرتے ہیں
ذکر وہی کرتے ہیں
نام اور دیتے ہیں
ضبط کے کناروں سے
درد آن لپٹا ہے
ٹوٹتے کنارے اب
درد اور دیتے ہیں
آج ایسا کرتے ہیں
درد سے الجھتے ہیں
ضبط چھوڑ دیتے ہیں
تار تار دامن کو
خار خار راہوں میں
رنجشیں بھلا کے ہم
آ کے جوڑ دیتے ہیں
آج ایسا کرتے ہیں
ہم نہیں پلٹتے ہیں
راہ موڑ دیتے ہیں
آ کے اب دعاؤں کو
ماتمی رداؤں میں
پھر سے کرکے الوداغ
موقع اور دیتے ہیں
آج اس کرتے ہیں
دریا میں اترتے ہیں
رب پے چھوڑ دیتے ہیں
-نامعلوم -
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں